ابنا: روسی وزیراعظم نے اس اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر ملکوں کےاقتداراعلی کےحق پرعدم توجہ پرتنقیدکرتےہوئےکہاکہ ملکوں کےاقتداراعلی میں مداخلت علاقائی اورایٹمی جنگ پرمنتج ہوسکتی ہے۔
روسی وزیراعظم کااشارہ مشرق وسطی بالخصوص شام کےسلسلےمیں مغرب کےرویے کی جانب تھا۔
مغربی ممالک شام ميں فوجی مداخلت کرکے صدربشاراسد کی حکومت تبدیل کرنےکےلئےبہانہ کی تلاش میں ہیں ۔مغربی ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل سےشام پرحملہ کرنےکی اجازت حاصل کرنےکی کوششیں اب تک روس اورچین کی وجہ سےناکام رہی ہيں ۔ روس کوتوقع ہےکہ اقوام متحدہ کےسابق جنرل سکریٹری کوفی عنان کےمنصوبہ پرکامیابی سےعمل درآمد اس ملک میں امن وامان بحال ہونےپرمنتج ہوگا ۔
مغربی طاقتیں کوفی عنان کےمنصوبےپرعمل درآمد اور بشاراسد اورمخالفین کےدرمیان مصالحت کو اپنےمفاد میں نہيں سمجھتیں اس بناپر وہ مخالفین کومسلح کرکے اوربشاراسد کےمخالفین کےدرمیان یکجہتی پیداکرکے یہ کوشش کررہی ہیں کہ پہلےمرحلےمیں جنگ بندی کوختم کریں اورپھر بشاراسد اوران کےمخالفین کےدرمیان بات چیت کوبھی روک دیں۔لیکن شام میں جوکـچہ ہورہاہے وہ اپنےمخالفین کےساتھ کسی حکومت کارویہ نہيں بلکہ بین الاقوامی مقابلہ آرائی ہے جو شام کی سرحدوں کےاندرجاری ہے۔
روس ہرگزیہ نہيں چاہتاکہ مغرب شام میں بھی لیبیاکاسیناریو دہرائے اورزبردستی وہاں کی حکومت بدل کراپنےمدنظرمشرق وسطی تشکیل دیں ۔ ایک ایسامشرق وسطی جس کےجغرافیائی حدود اورحکومتیں مغرب کےمفادات اورمطالبات کی بنیاد پرتبدیل ہوں ۔
روس کےوزیراعظم نے سینٹ پیٹرزبرگ میں اسی مسئلےپرردعمل ظاہرکیاہے۔ روسی وزیراعظم نے مغربی ممالک کو اس منصوبےپرعمل درآمد سےروکنےکی کوشش کی ہے اورمغربی حکومتوں کواشارےہی اشارے میں مذکورہ منصوبےکےخلاف ماسکوکےایٹمی ردعمل کےامکان کی دھمکی دی ہے۔
روسی وزیراعظم مدودف نے ممکنہ ایٹمی جنگ چھڑنےکےبارےمیں کہا کہ وہ کسی کوڈرانا نہيں چاہتےلیکن اٹھارہ اورانیس مئی کوواشنگٹن کےمضافات میں ہونےوالےگروپ آٹھ کےاجلاس میں مغربی ممالک کےرہنماؤں کواپنادھمکی آمیزپیغام ضرور بھیج دیا۔
واشنگٹن میں ہونےوالےصنعتی ممالک کی تنظیم گروپ آٹھ کےاجلاس کاایک اصلی موضوع شام کےحالات ہیں۔ مدودف نےاس اجلاس میں شرکت سےپہلے ہی گروپ آٹھ کےرکن مغربی ممالک پریہ واضح کردیاہےکہ روس اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کوخاطرميں لائےبغیرمغرب کی جانب سے طرح طرح کی پابندیوں کامخالف ہے۔ جیساکہ روسی وزیراعظم نے سینٹ پیٹرزبرگ کےاجلاس میں کہا، کرملین کی نگاہ میں ان طریقوں سےنہ صرف یہ کہ دنیاکی صورت حال نہيں بدلےگی بلکہ فوجی مداخلت کاشکارہونےوالےممالک میں تشددپسندریڈیکل قوتیں برسراقتدارآجائيں گی ۔....... /169